تماشا
A short story by Saadat Hasan Manto

دو تین روز سے طیارے سیاہ عقابوں کی طرح پر پھلائے خاموش فضا میں منڈلا رہے تھے، جیسے وہ کسی شکار کی جستجو میں ہوں۔ سرخ آندھیاں وقتاً فوقتاً کسی آنے والے خونی حادثے کا پیغام لا رہی تھیں۔ سنسان بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت ایک عجیب ہیبت ناک سماں پیش کر رہی تھی۔ وہ بازار جو صبح سے کچھ عرصہ پہلے لوگوں کے ہجوم سے پر ہوا کرتے تھے، اب کسی نامعلوم خوف کی وجہ سے سونے پڑے تھے۔۔۔ شہر کی فضا پر ایک پر اسرار خاموشی مسلط تھی۔ بھیانک خوف راج کر رہا تھا۔ خالد گھر کی خاموش و پرسکوت فضا سے سہما ہوا اپنے والد کے قریب بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔
’’ابا، آپ مجھے اسکول کیوں نہیں جانے دیتے؟‘‘
’’بیٹا آج سکول میں چھٹی ہے۔‘‘
’’ماسٹر صاحب نے تو ہمیں بتایا ہی نہیں۔ وہ تو کل کہہ رہے تھے کہ جو لڑکا آج اسکول کا کام ختم کر کے اپنی کاپی نہ دکھائے گا، اسے سخت سزا دی جائے گی!‘‘
’’وہ اطلاع دینی بھول گئے ہوں گے۔‘‘
’’آپ کے دفتر میں بھی چھٹی ہو گی؟‘‘
’’ہاں، ہمارا دفتر بھی آج بند ہے۔‘‘
’’چلو اچھا ہوا۔ آج میں آپ سے کوئی اچھی سی کہانی سنوں گا۔‘‘
یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ تین طیارے چیختے ہوئے ان کے سر پر سے گزر گئے۔ خالد ان کو دیکھ کر بہت خوف زدہ ہوا، وہ تین چار روز سے ان طیاروں کو بغور دیکھ رہا تھا، مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تھا۔ وہ حیران تھا کہ یہ جہاز سارا دن دھوپ میں کیوں چکر لگاتے رہتے ہیں۔ وہ ان کی روزانہ نقل و حرکت سے تنگ آ کر بولا، ’’ابا مجھے ان جہازوں سے سخت خوف معلوم ہو رہا ہے۔ آپ ان کے چلانے والوں سے کہہ دیں کہ وہ ہمارے گھر پر سے نہ گزرا کریں۔‘‘
’’خوب۔۔۔! کہیں پاگل تو نہیں ہو گئے خالد!‘‘
’’ابا، یہ جہاز بہت خوف ناک ہیں۔ آپ نہیں جانتے، یہ کسی نہ کسی روز ہمارے گھر پر گولہ پھینک دیں گے۔۔۔ کل صبح ماما امی جان سے کہہ رہی تھی کہ ان جہاز والوں کے پاس بہت سے گولے ہیں۔ اگر انہوں نے اس قسم کی کوئی شرارت کی، تو یاد رکھیں میرے پاس بھی ایک بندوق ہے۔۔۔ وہی جو آپ نے پچھلی عید پر مجھے دی تھی۔‘‘
خالد کا باپ اپنے لڑکے کی غیر معمولی جسارت پر ہنسا، ’’ماما تو پاگل ہے، میں اس سے دریافت کروں گا کہ وہ گھر میں ایسی باتیں کیوں کیا کرتی ہے۔۔۔ اطمینان رکھو، وہ ایسی بات ہرگز نہیں کریں گے۔‘‘
اپنے والد سے رخصت ہو کر خالد اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اور ہوائی بندوق نکال کر نشانہ لگانے کی مشق کرنے لگا تاکہ اس روز جب ہوائی جہاز والے گولے پھینکیں، تو اس کا نشانہ خطا نہ جائے۔ اور وہ پوری طرح انتقام لے سکے۔۔۔ کاش! انتقام کا یہی ننھا جذبہ ہر شخص میں تقسیم ہو جائے۔
اسی عرصے میں جبکہ ایک ننھا بچہ اپنے انتقام لینے کی فکر میں ڈوبا ہوا طرح طرح کے منصوبے باندھ رہا تھا، گھر کے دوسرے حصے میں خالد کا باپ اپنی بیوی کے پاس بیٹھا ہوا ماما کو ہدایت کر رہا تھا کہ وہ آئندہ گھر میں اس قسم کی کوئی بات نہ کرے جس سے خالد کو دہشت ہو۔
ماما اور بیوی کو اسی قسم کی مزید ہدایات دے کر وہ ابھی بڑے دروازے سے باہر جا رہا تھا کہ خادم ایک دہشت ناک خبر لایا کہ شہر کے لوگ بادشاہ کے منع کرنے پر بھی شام کے قریب ایک عام جلسہ کرنے والے ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور پیش آکر رہے گا۔
